الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا لَا يُضَحَّى بِهِ لِعَيْبِهِ وَلَا يُكْرَهُ وَمَا يُسْتَحَبُّ باب: ان جانوروں کا بیان کہ عیب کی وجہ سے جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور جن کی قربانی مکروہ ہے اور جن کی مستحبّ ہے
حدیث نمبر: 4674
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَدُوسٍ يُقَالُ لَهُ جُرَيُّ بْنُ كُلَيْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ عَضْبَاءِ الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ قَالَ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ فَقَالَ النَّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے جانور کی قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ قتادہ راوی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب سے (عَضْبَاء کی مقدار کے بارے میں) سوال کیا، انھوں نے کہا: نصف یا اس سے ٹوٹا ہوا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … قارئین درج ذیل بحث کا بغور مطالعہ کریں، کیونکہ بعض اہل علم نے مذکورہ بالا حدیث کو بھی حسن قرار دیا ہے۔