حدیث نمبر: 4667
عَنْ أَبِي كِبَاشٍ قَالَ جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ فَكَسَدَتْ عَلَيَّ فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ قَالَ فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو کباش کہتے ہیں: میں بھیڑ نسل کے جذعہ جانور مدینہ میں لایا، لیکن میرا معاملہ تو مندا پڑ گیا،سو میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھیڑ نسل کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔ پھر تو لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور ان کو خریدنا شروع کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ بکری کی نسل کا جذعہ تھا اور یہ خصوصی رخصت تھی، عام حکم نہیں تھا، جیسا کہ اگلی احادیث سے معلوم ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4667
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة كدام بن عبد الرحمن وأبي كباش، أخرجه الترمذي: 1499 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9737»