حدیث نمبر: 4666
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم صرف دو دانتا جانور ہی ذبح کرو، ہاں اگر یہ جانور تم پر مشکل ہو جائے تو بھیڑ نسل کا جذعہ ذبح کر سکتے ہو۔

وضاحت:
فوائد: … مُسِنَّۃ یا ثَنِیّ اس جانور کو کہتے ہیں، جس کے سامنے والے دودھ کے دانت گر گئے ہوں اور ان کی جگہ پر نئے دانت نکل آئے ہوں، اس کو اردو میں دو دانتا اور پنجابی میں دوندا کہتے ہیں، بعض حضرات نے مُسِنَّۃ کا معنی ایک سال کاکیا ہے، حالانکہ یہ معنی نہ لغت کے لحاظ سے صحیح ہے اور نہ عرف کے لحاظ سے، کیونکہ مُسِنَّۃ کا سِنّ سے بنا ہے، جس کا معنی دانت ہے، نہ کہ سَنَۃٌ سے، جس کا معنی سال ہے، عرفاً بھی بکرا ایک سال میں دو دانتا نہیں ہوتا، اکثر بعد میں ہوتا ہے، شاذ و نادر طور پر ایک سال کا بھی ہو سکتا ہے، مگر عموماً نہیں۔ جبکہ اصل مقصد دانت کا گرنا ہے نہ کہ عمر، اس لیے کہ دانت گرنے کے لیے کوئی عمر معین نہیں، نیز عمر کا تعین بہت مشکل ہے، کیونکہ جس جانور کو چار پانچ یا اس سے زیادہ ہاتھوں میں فروخت ہونا ہو، اس کے سودے میں کہاں عمر کا ذکر کیا جاتا ہے، بلکہ بیوپاری لوگوں کا اس چیز کا اہتمام کرنا ناممکن نظر آتا ہے، دوسری بات کہ اس میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے اور بیچنے والا جھوٹ بھی بول سکتا ہے، مگر دانت گرنا اور اس کی جگہ پر نیا دانت آنا ایک واضح اور یقینی علامت ہے، جس میں دھوکہ ممکن ہی نہیں، لہذا صحیح اور راجح بات یہ ہے کہ قربانی کا جانور دودانتا ہو، بکرا ہویا دنبہ یا گائے یا اونٹ اور یہ سب جانور مختلف عمروں میں دوندے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4666
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14556»