الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ فِي الْعَشْرِ مَنْ أَرَادَ التَّضْحِيَةَ وَمَا يَقُومُ مَقَامَ الْأُضْحِيَةِ لِلْفَقِيرِ باب: ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى جَعَلَهُ اللَّهُ عِيدًا لِهَذِهِ الْأُمَّةِ فَقَالَ الرَّجُلُ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ ابْنِي أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ لَا وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَتُقَلِّمُ أَظْفَارَكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: مجھے یومِ اضحی کا حکم دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید بنایا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میرے پاس صرف اپنے بیٹے کی ایک بکری ہو تو اس کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم (قربانی والے دن) اپنے بالوں کو کاٹو، ناخنوں کو تراشو، مونچھوں کو کاٹو اور زیر ناف بال مونڈو، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں تمہاری پوری قربانی ہو گی۔