الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يَجْتَنِبُهُ فِي الْعَشْرِ مَنْ أَرَادَ التَّضْحِيَةَ وَمَا يَقُومُ مَقَامَ الْأُضْحِيَةِ لِلْفَقِيرِ باب: ان امور کا بیان کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جن سے اجتناب کرے گا، نیز اس چیز کا بیان جو فقیر کے لیے قربانی کے قائم مقام ہوتی ہے
حدیث نمبر: 4664
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْحَرَ فِي هِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ذوالحجہ کے مہینے میں قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے۔
وضاحت:
فوائد: … قربانی کا ارادہ رکھنے والے کو ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں جسم سے بال کٹوانے اور منڈوانے اور ناخن تراشنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ قربانی کے لیے بڑے قیمتی جانور لے لیتے ہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم کو اپنے وجود پر لاگو نہیں کر سکتے۔