الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَضَاحِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات، اہل بیت اور اپنی امت کے فقراء کی طرف سے قربانیاں
حدیث نمبر: 4655
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشٍ أَقْرَنَ وَقَالَ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سینگوں والے ایک دنبے کی قربانی کی اور فرمایا: ھَذَا عَنِّيْ وَ عَمَّنْ لَمْ یُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي (یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان افراد کی طرف سے ہے، جنھوں نے قربانی نہیں کی)۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امت کے ان افراد کی طرف سے قربانی کرنا، جو قربانی نہ کر سکے تھے، یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ ہے اور یہ جائزنہیں ہے کہ ایک بکری ایک سے زائد گھرانوں کی طرف سے قربان کی جائے۔