حدیث نمبر: 4652
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ضَحَّى اشْتَرَى كَبْشَيْنِ سَمِينَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ وَفِي لَفْظٍ مَوْجَيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَإِذَا صَلَّى وَخَطَبَ النَّاسَ أُتِيَ بِأَحَدِهِمَا وَهُوَ قَائِمٌ فِي مُصَلَّاهُ فَذَبَحَهُ بِنَفْسِهِ بِالْمُدْيَةِ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا عَنْ أُمَّتِي جَمِيعًا مِمَّنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ ثُمَّ يُؤْتَى بِالْآخَرِ فَيَذْبَحُهُ بِنَفْسِهِ وَيَقُولُ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَيُطْعِمُهُمَا جَمِيعًا الْمَسَاكِينَ وَيَأْكُلُ هُوَ وَأَهْلُهُ مِنْهُمَا فَمَكَثْنَا سِنِينَ لَيْسَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ يُضَحِّي قَدْ كَفَاهُ اللَّهُ الْمَؤُونَةَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْغُرْمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مولائے رسول سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قربانی کرتے تو دو موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے اور خصی دنبے خریدتے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ عید ادا کرتے اور لوگوں کو خطبہ دیتے تو ایک دنبے کو لایا جاتا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تک عید گاہ میں ہی کھڑے ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود چھری کے ساتھ اس کو ذبح کرتے اور فرماتے: اے اللہ! یہ میری ساری امت کی طرف سے ہے، جنہوں نے تیرے لیے توحید کی اور میرے لیے تبلیغ کی شہادت دی ہے۔ پھر دوسرا دنبہ لایا جاتا، اس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ذبح کرتے اور فرماتے: یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور آلِ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف سے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دونوں دنبے مسکینوں کو کھلا دیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت بھی ان سے کھاتے تھے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر ہم نے کئی برسوں تک دیکھا کہ بنو ہاشم کا کوئی بندہ قربانی نہیں کرتا تھا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کی وجہ سے ان کو قربانی کے بوجھ اور خرچ سے کفایت کر دیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4652
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، علي بن الحسين لم يدرك ابا رافع، ولضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد اضطرب فيه ايضا، أخرجه البزار: 1208، والحاكم: 2/ 391 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27732»