الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ نَحْرِ الْإِبِلِ قَائِمَةً مُقَيَّدَةً وَأَكْلِ الْمُهْدَى مِنْ هَدْيِهِ وَالتَّصْدِيقِ بِجِلْدِهِ وَجِلَالِهِ باب: اونٹ کو کھڑا کر کے اور باندھ کر نحر کرنا، ہدی لے جانے والے کا اپنی ہدی کا گوشت کھانا اور اس کے چمڑے اور پالان وغیرہ کو صدقہ کر دینا اور اس میں کوئی چیز قصاب کو اجرت میں نہ دینا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي صِفَةِ حَجِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کی کل تعداد سو (۱۰۰) تھی، بعض جانور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور کچھ جانور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود لے کر گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے تریسٹھ جانور ذبح کیے، پھر باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیئے اور انھوں نے ان کو ذبح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ہدیوں میں شریک کیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہر اونٹ سے ایک ٹکڑا لیا جائے اور ان کو ہنڈیاں میں پکایا جائے، پھر ان دونوں نے ان کا گوشت کھایا اور ان کا شوربا پیا۔