الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهَدْيِ يَعْطَبُ قَبْلَ الْمَحِلِّ باب: ہدی کا اپنے محل تک پہنچنے سے پہلے تھک جانا
حدیث نمبر: 4637
عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهَدْيِ يَعْطَبُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ أَوْ قَالَ عَلَى جَنْبِهِ وَلَا تَأْكُلَنَّ مِنْهُ شَيْئًا أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمرو بن خارجہ ثمالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چلنے سے عاجز آ جانے والی ہدی کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر کر دینا اور اس کے جوتے کو اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر رکھ دینا اور ہرگز نہ تو نے اس سے کھانا ہے اور نہ تیری جماعت کے کسی فرد نے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات میں ان جوتوں کا ذکر ہے، جو ہدی کے جانوروں کو بطورِ قلادہ ڈالے گئے تھے، ذبح کے بعد یہ خاص انداز اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آس پاس کے لوگوں کو یا اس جماعت کے بعد گزرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ یہ مسلمان کی ہدی کا جانور تھا اور وہ بلا شک و شبہ اس کو کھا لیں، ہدی کے مالک اور اس کے ہم سفر ساتھیوں کو ایسے جانور کا گوشت اس لیے کھانے سے منع کر دیا تاکہ وہ ہدی کے جانوروں کو راستے میں ذبح کرنے کے لیے حیلہ بہانہ کرنا ہی ترک کر دیں۔