الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي رُكُوبِ الْبُدْنِ الْمُهْدَاةِ باب: ہدی والے اونٹ پر سوار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4631
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدْ سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا: اگر تو مجبور ہو جائے تو معروف طریقے کے ساتھ اس پر سوار ہو جا، یہاں تک کہ تو کوئی اور سوار پا لے۔
وضاحت:
فوائد: … اصل تو یہی ہے کہ ہدی کا اونٹ آگے آگے خالی جائے، اس پر بوجھ لدا ہوا ہو نہ اس پر سواری کی جا رہی ہو، یہ اس کے احترام کا تقاضا ہے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کی اونٹنی اور تھی اور قربانی کے اونٹ الگ تھے، لیکن جب کوئی شخص تنگ دست ہو، اس کے پاس ایک ہی اونٹ ہو، جس کو وہ بطورِ ہدی پیش کرنا چاہتا ہو، جب کہ فاصلہ بعید ہو تو ایسے جانور پر سواری کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، آخری حدیث سے واضح طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ مجبوری کی صورت میں ایسے جانور پر سواری کرنی چاہیے اور مجبوری سے مراد سواری کا نہ ہونا ہے، نہ کہ چلنے سے بالکل عاجز آ جانا، البتہ سواری کرتے وقت اس جانور کا احترام قائم رکھے، یعنی نہ اسے بھگائے، نہ مارے، نہ سب و شتم کرے، بلکہ اس کو اپنی مرضی کے مطابق چلنے دے اور جب وہ تھک جائے تو آرام کرنے دے۔