حدیث نمبر: 4623
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ حُجَيَّةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ عَنْ سَبْعَةٍ فَقَالَ مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ فَقَالَ لَا يَضُرُّكَ قَالَ الْعَرْجَاءُ قَالَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ فَاذْبَحْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَثْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ حجیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: سات افراد کی طرف سے، اس نے کہا: اگر سینگ ٹوٹا ہوا ہو؟ انھوں نے کہا: یہ چیز تجھے نقصان نہیں دے گی، اس نے کہا: اگر لنگڑا جانور ہو تو؟ انھوں نے کہا: جب وہ قربان گاہ تک پہنچ جائے تو اس کو ذبح کر دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم آنکھ اور کان کو غور سے دیکھیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ لنگڑے جانور کے بارے میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب اس کا لنگڑا پن معمولی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ احادیث میں اس لنگڑے جانور سے منع کیا گیا ہے، جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4623
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، أخرجه ابن ماجه: 3143، والترمذي: 1503 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 734»