حدیث نمبر: 4622
عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُلْتُ الْجَزُورُ وَالْبَقَرَةُ تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ يَا شَعْبِيُّ وَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ قَالَ قُلْتُ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَنَّ الْجَزُورَ وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِرَجُلٍ أَكَذَاكَ يَا فُلَانُ قَالَ نَعَمْ قَالَ مَا شَعَرْتُ بِهَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ مجالد بن سعید کہتے ہیں: شعبی نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے کہا: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور کہا: کیا اونٹ اور گائے سات افراد کی طرف سے کفایت کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اے شعبی! کیا اونٹ اور گائے کے سات سات نفس ہیں کہ وہ سات افراد سے کفایت کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم یہی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ طریقہ مقرر کیا ہے کہ اونٹ اور گائے میں سات افراد شریک ہوں گے، یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہاـ: اے فلاں آدمی! کیا معاملہ اسی طرح ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: مجھے تو اس کا پتہ نہ چل سکا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4622
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23874»