الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ أَنَّ مَنْ بَعَثَ بِهَدْيٍ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِمَّا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ باب: ہدی بھیجنے والے پر وہ چیزیں حرام نہیںہوں گی ، جو حاجی پر حرام ہوتی ہیں
حدیث نمبر: 4609
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُكُهُ إِنَّا لَا نَعْلَمُ الْحَرَامَ يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدی کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کسی چیز سے الگ ہوتے اور نہ اس کو چھوڑتے تھے، ہم تو یہی جانتے تھے کہ محرم کو حلال کرنے والی چیز بیت اللہ کا طواف ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس جگہ حرام سے مراد محرم ہے اور مقصد یہ ہے کہ حج یا عمرہ کے لیے احرام باندھنے والا بیت اللہ کا طواف کرے تو پھر اس کے لیے وہ چیزیں حلال ہوتی ہیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔ بیت اللہ کی طرف قربانی بھیجنے والا چونکہ محرم ہی نہیں اس لیے اس پر احرام والی کوئی پابندی بھی نہیں۔