الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4601
عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَتَلَقَّى الْحَاجَّ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُواترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ادائیگی ٔ حج سے واپس آنے والوں سے ملاقات کرنے کے لیے نکلا، ہم ان پر سلام کرتے قبل اس کے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے میلے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … بہرحال احادیث سے ثابت ہے کہ ادائیگی ٔ حج سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور کسی کی نیکیوں کی وجہ سے اس سے ملاقات کرنا باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے۔