حدیث نمبر: 4600
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَحَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ((فَانْفِرِي إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں جس سنت کا ذکر ہے، وہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے:
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4600
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن ، أخرجه أبوداود: 2782 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25942»