الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
مَا يَقُولُ أَوْ يَفْعَلُهُ الْحَاجُّ عِنْدَ قُدُوْمِهِ وَ اسْتِحْبَابُ السَّلَامِ عَلَيْهِ وَ مُصَافَحَتِهِ وَ طَلَبِ الدُّعَاءِ مِنْهُ باب: اس چیز کا بیان کہ حاجی واپس آتے وقت کیا کہے گا یا کیا کرے گا، اسی طرح اس پر سلام کہنے، اس کے ساتھ مصافحہ کرنے اور اس سے دعا کا مطالبہ کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4600
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَحَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ((فَانْفِرِي إِذًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حج سے واپس تشریف لائے تو وادی ٔ بطحاء میں نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے دروازے پر اونٹ بٹھایا اور مسجد میں داخل ہو کر نماز ادا کی، پھر اپنے گھر کی طرف تشریف لے گئے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں جس سنت کا ذکر ہے، وہ درج ذیل حدیث ِ مبارکہ سے زیادہ واضح ہو جاتی ہے: