حدیث نمبر: 4590
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ رَأَى صَفِيَّةَ عَلَى بَابِ خِبَائِهَا كَئِيبَةً أَوْ حَزِينَةً وَحَاضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((عَقْرَى أَوْ حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: ((فَانْفِرِي إِذًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حجۃ الواداع سے فارغ ہو کر) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازے پر غمزدہ ہو کر کھڑی ہیں، دراصل ان کو حیض آ گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یا بانجھ خاتون، سر منڈی اے! تو ہمیں روکنے والی ہے؟ اچھا کیا تو نے نحر والے دن طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر روانہ ہو جا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4590
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5329، 6157، ومسلم: 1211 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25428 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25942»