الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ حُكْمِ مَنْ حَاضَتْ بَعْدَ طَوَافِ الْإِفَاضَةِ باب: طوافِ افاضہ کے بعد حائضہ ہو جانے والی خاتون کا حکم
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِذْ قَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنْتَ تُفْتِي أَنْ تَصْدُرَ الْحَائِضُ قَبْلَ أَنْ يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَلَا تُفْتِ بِذَلِكَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِمَّا لَا فَسَلْ فُلَانَةَ الْأَنْصَارِيَّةَ هَلْ أَمَرَهَا بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَضْحَكُ وَيَقُولُ: مَا أُرَاكَ إِلَّا قَدْ صَدَقْتَ۔ طاؤوس کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم یہ فتوی دیتے ہو کہ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف کیے بغیر جا سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تم یہ فتوی نہ دو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تم نہیں مانتے تو فلاں انصاری خاتون سے پوچھ لو، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس چیز کا حکم دیا تھا؟ سیدنا زید وہاں سے ہنستے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ پڑے: میرا یہی خیال ہے کہ تو نے سچ کہا ہے۔