الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِي تَحَلُّلِ الْمُحْصَرِ عَنِ الْعُمْرَةِ بِالنَّحْرِ ثُمَّ الْحَلْقِ حَيْثُ أُحْصِرَ مِنْ حَلَّ أَوْ باب: محصر کو حل و حرم کے جس مقام پر بھی روک دیا جائے گا، وہ قربانی اور پھر حلق کر کے¤عمرہ سے حلال ہو جائے گا اور اس پر کوئی قضاء نہیں ہو گی
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ: وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کرنے کے لیے نکلے، قریش کے کافر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر اپنی ہدی کو نحر کیا اور سر منڈوایا اور ان کافروں سے یہ طے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگلے سال عمرہ کریں گے، تلوار کے علاوہ اسلحہ اٹھا کر نہیں لائیں گے اور اتنی دیر مکہ میں قیام کریں گے، جتنا قریشی چاہیں گے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اگلے سال عمرہ کیا، کافروں سے کی گئی مصالحت کے مطابق داخل ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نکل جانے کا کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل گئے۔