الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ وَالدُّعَاءِ عِنْدَ الْمُلْتَزَمِ باب: طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان¤طوافِ وِداع: … وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 4583
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْحَائِضِ أَنْ تَصْدُرَ قَبْلَ أَنْ تَطُوفَ إِنْ كَانَتْ قَدْ طَافَتْ فِي الْإِفَاضَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حائضہ کو طوافِ وداع کے بغیر ہی (اپنے وطن کو) واپس چلے جانے کی رخصت دی ہے، بشرطیکہ وہ پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا طوافِ افاضہ کرنے کے بعد حائضہ ہو گئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیایہ ہمیں روکنے والی ہو گی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! انھوں نے حیض سے پہلے طوافِ افاضہ تو کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر چل پڑے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، دیکھیں حدیث نمبر ۴۵۹۰)
یہ احادیث طوافِ وداع کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، اس سے صرف وہ عورت مستثنی ہے، جو روانگی کے وقت حائضہ ہو، لیکن اس سے پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ امام شوکانی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طواف کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے چھوڑ کر چلے جانے سے منع بھی کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھییہ طواف کیا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ امور وجوب کا فائدہ دیتے ہیں۔ (نیل الاوطار: ۵/ ۱۵۱)
یہ احادیث طوافِ وداع کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں، اس سے صرف وہ عورت مستثنی ہے، جو روانگی کے وقت حائضہ ہو، لیکن اس سے پہلے طوافِ افاضہ کر چکی ہو۔ امام شوکانی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طواف کا حکم بھی دیا ہے اور اس کے چھوڑ کر چلے جانے سے منع بھی کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھییہ طواف کیا ہے، کوئی شک نہیں کہ یہ امور وجوب کا فائدہ دیتے ہیں۔ (نیل الاوطار: ۵/ ۱۵۱)