الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَشْرُوعِيَّةِ طَوَافِ الْوَدَاعِ وَسُقُوطِهِ عَنِ الْحَائِضِ وَالدُّعَاءِ عِنْدَ الْمُلْتَزَمِ باب: طوافِ وداع کی مشروعیت اور حائضہ سے اس کے ساقط ہونے اورملتزم کے پاس دعا کرنے کا بیان¤طوافِ وِداع: … وہ طواف جو حج سے فراغت کے بعد مکہ مکرمہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ تَحِيضُ؟ قَالَ: لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ قُلْتُ: كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرَبْتَ عَنْ يَدَيَّ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ مَا أُخَالِفَ۔ سیدنا حارث بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ایک عورت طواف افاضہ کر چکنے کے بعد حائضہ ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ انہوں نے کہا: اس کا آخری عمل تو بیت اللہ کا طواف (یعنی طواف وداع) ہی ہونا چاہیے۔ میں (حارث رضی اللہ عنہ )نے کہا: مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فتوی دیا تھا۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں ، جو بات تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر چکا ہے، مجھ سے بھی پوچھتا ہے تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کروں۔