الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ نُزُولِ الْمُحَصَّبِ إِذَا نَفَرَ مِنْ مِنًى باب: منیٰ سے واپسی پر وادیٔ محصّب میں ٹھہرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ عُمْرَتِهَا بَعْدَ الْحَجِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: ((اخْرُجْ بِأُخْتِكَ فَلْتَعْتَمِرْ فَطُفْ بِهَا الْبَيْتَ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةَ ثُمَّ لِتَقْضِ ثُمَّ ائْتِنِي بِهَا قَبْلَ أَنْ أَبْرَحَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ)) قَالَتْ: فَإِنَّمَا أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَصْبَةِ مِنْ أَجْلِي (وَفِي لَفْظٍ) قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے والے بعد اپنے عمرے کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اپنی بہن (عائشہ) کے ہمراہ جاؤ اور ان کو بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کراؤ، تاکہ یہ اپنا عمرہ ادا کر لے،پھر اس کو میرے پاس واپس لے آنا، لیکن اس سے پہلے کہ میں حصبہ والی رات گزار لوں، (یعنی راتوں رات واپس آ جانا)۔ سیدہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں صرف میری وجہ سے قیام کیا تھا۔ دوسری روایت کے الفاظ یوں ہیں: سیدہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوکر وادی محصّب میں جاکر ٹھہرے، اللہ کی قسم ! آپ نے صرف میری وجہ سے وہاں قیام کیا تھا۔