الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ باب: ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 4570
عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنَى عَلَى رَاحِلَتِهِ وَنَحْنُ عِنْدَ يَدَيْهَا قَالَ: إِبْرَاهِيمُ وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَالَ: عِنْدَ الْجَمْرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ بنو بکر کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر تھے اور ہم سواری کے سامنے جمرہ کے قریب کھڑے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان خطابات کا مناسک ِ حج سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد تبلیغ کرنا ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۴۵۵۱)۔