الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخُطْبَةِ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ باب: ایام تشریق کے وسط میں خطبہ دینے کا بیان
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَقَالَ: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِأَعْجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا لِأَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى أَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟)) قَالُوا: حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟)) قَالُوا: شَهْرٌ حَرَامٌ ثُمَّ قَالَ: ((أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟)) قَالُوا: بَلَدٌ حَرَامٌ قَالَ: ((فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ بَيْنَكُمْ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ أَمْ لَا كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا أَبَلَّغْتُ؟)) قَالُوا: بَلَّغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ))۔ بو نضرہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی نے بیان کیا جس نے ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خطبہ سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر تقویٰ کے ساتھ۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے اللہ کا پیغام پہنچادیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ صحابہ نے کہا: آج حرمت والا دن ہے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون سا مہینہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے کہا: یہ حرمت والا شہر ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے خون، مال اور عزت کو ایک دوسرے پر اسی طرح حرام کردیا ہے، جیسے اس ماہ میں اور اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا؟ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول نے پیغام پہنچادیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ یہ باتیں ان لوگو ں تک پہنچادیں، جو یہا ں موجود نہیں ہیں۔