حدیث نمبر: 4567
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَوْسَ بْنَ الْحَدَثَانِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ فَنَادَيَا: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اور سیدنا اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کو ایام تشریق کے دوران یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ صرف مومن جنت میں جائے گا اور ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۳۸۶۰)کے باب میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ ایام تشریق میں روزے رکھنے سے منع کیا گیا ہے، البتہ حج تمتع کرنے والا شخص، جو قربانی نہ کر سکتا ہو، ان دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ یہ حقیقت تو بلا شک و شبہ ہے کہ عہد ِ نبوی اور خلفائے راشدین کے دور میں مِنی میں قصر نماز کی وجہ سفر تھی اور یہ قصر حج کی مناسبت کی وجہ سے نہ تھی۔ سوال یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مِنٰی میں مکمل نماز کیوں پڑھائی اور قصر نماز کے لیے جس حد بندی کا تعین کیا جاتا ہے، کیا مِنٰی اس کا مصداق بنتا ہے یا نہیں؟ ان دونوں مسئلوں پر حدیث نمبر (۲۳۵۷) کے باب اور اس میں مذکورہ احادیث کے فوائد میں سیر حاصل بحث کی جا چکی ہے، قارئین خود مطالعہ کر لیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4567
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15886»