الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ لِرُعَاءِ الْإِبِلِ فِي جَمْعِ رَمْيِ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَفِي الْمَبِيتِ بِمَكَّةَ أَيَّامٍ باب: اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اورضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 4564
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ أَيَّامَ مِنَى مِنْ أَجْلِ السِّقَايَةِ فَرَخَّصَ لَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلانے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ اجازت طلب کی وہ ایام منیٰ والی راتیں مکہ میں گزار لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی۔
وضاحت:
فوائد: … عبد ِ مناف، حاجیوں کو پانی پلانے کی ذمہ داری ادا کرتے تھے، ان کے بعد بالترتیب بنو ہاشم، عبد المطلب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے یہ ذمہ داری ادا کی، جب مکہ مکرمہ پر اسلام غالب آیا تو اس وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ہی پانی پلانے کے والی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عہدہ ان کے پاس ہیرہنے دیا۔ ذہن نشین کر لیں کہ یہ صرف شرف ہی نہیں تھا، بلکہ کچھ عرصہ پہلے تک، جب اس سرزمین میں جدید مشینیں نہیں تھیں،یہ زیادہ ضروری بھی تھا کہ کسی ایک بندے کو حجاج کرام کو پانی پلانے کا منتظم بنا دیا جائے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عذر کی بنا پر مِنٰی والی راتیں مکہ مکرمہ میں گزارنے کی اجازت دی۔ پانی پلانے کی جو صورتحال آج موجود ہے، بکثرت ٹونٹیاں لگا دی گئی ہیں، خود کار مشینیں کام کر رہی ہیں، جن کا خراب ہونا انتہائی نادر ہے، ایسی صورت میں صرف ضروری مسئول اور ملازم کو مستثنی کیا جائے گا۔ حرم مکی کے یا دوسرے ملازموں کی بھییہی صورتحال ہو گی کہ اگر مِنٰی میں راتیں گزارنے کی وجہ سے ان کی ڈیوٹی متأثر ہوتی ہو یا ان کو چھٹی نہ ملتی ہو توو ہ اپنے کام جاری رکھیں اور چرواہوں کی طرح رمی کر لیں۔ اسی طرح دوسرے معذور حضرات کا بھییہی حکم ہو گا، مثلا ایسا مریض کہ جس کا ہسپتال میںرہنا ضروری ہو، لیکنیہ ساری رخصتیں ان لوگوںکے لیے ہیں جو مِنٰی والے ایام سے پہلے والے ارکان ادا کر چکے ہوں۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْیَوْمَیْنِ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی} … اور اللہ تعالیٰ کییاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں،یہ پرہیز گار کے لیے ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۳) جمرات کو کنکریاں مارنا تین دن افضل ہیں،یعنی (۱۱، ۱۲، ۱۳) ذوالحجہ کے دن، لیکن اگر کوئی آدمی دو دن (اا، ۱۲ ذوالحجہ) کو کنکریاں مار کر مِنٰی سے واپس آ جائے تو اس کی بھی اجازت ہے۔