الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ لِرُعَاءِ الْإِبِلِ فِي جَمْعِ رَمْيِ يَوْمَيْنِ فِي يَوْمٍ وَفِي الْمَبِيتِ بِمَكَّةَ أَيَّامٍ باب: اس امر کا بیان کہ اونٹوں کے چرواہوں کے لئے دو دنوں کی رمی ایک دن میں کر لینا اورضرورت مند لوگوں کا منی کی راتیں مکہ میں گزار لینا جائز ہے
حدیث نمبر: 4563
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَتَعَاقَبُوا فَيَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَدَعُوا يَوْمًا وَلَيْلَةً ثُمَّ يَرْمُوا الْغَدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چرواہوں کو یہ رخصت دی تھی کہ وہ باریاں مقرر کرلیں، دس ذوالحجہ کو رمی کر لیں، اس کے بعد ایک دن رات کا وقفہ کر کے اگلے دن آ کر رمی کرلیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگر چرواہے کو کوئی متبادل چیز مل سکتی ہو، مثلا رات کو واپس آ جانا آسان ہو یا کسی غیر حاجی شخص سے اجرت پر یا بغیر اجرت کے تعاون لینا ممکن ہو یا مِنٰی سے ہی جانوروں کا چارہ خریدا جا سکتا ہو، جبکہ مالک کو ایسے معاوِن کے سلسلے میں امن ہو یا کسی اور جگہ سے چارہ خریدنے کی استطاعت ہو تو چرواہے کا عذر ختم ہو جائے گا اور وہ مِنٰی میں ہی رات گزارے گا۔