حدیث نمبر: 4561
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنَى بَيْتًا أَوْ بِنَاءً يُظِلُّكَ مِنَ الشَّمْسِ؟ فَقَالَ: ((لَا إِنَّمَا هُوَ مُنَاخٌ لِمَنْ سَبَقَ إِلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ہم آپ کے لئے منیٰ میں گھر یا کوئی خیمہ نہ لگا دیں، جو آپ کو دھوپ سے بچائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، منی تو اس آدمی کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے، جو وہاں پہلے پہنچ جائے۔

وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ میں بیان کردہ احکام واضح ہیں کہ تشریق والے ایام مِنٰی میں گزارے جائیں اور ان تینوں دنوںمیں زوالِ آفتاب کے بعد رمی کی جائے، جبکہ پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس رک کر اور قبلہ رخ ہو کر گڑگڑا کر طویل دعا کی جائے اور اس مقصد کے لیے جمرۂ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرا جائے، نیز ان دنوں میں کثرتِ ذکر کا اہتمام کیا جائے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَاذْکُرُوْا اللّٰہَ فِیْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ} … اور اللہ تعالی کییاد ان گنتی کے چند دنوں میں کرو۔ (سورۂ بقرہ: ۲۰۳) ان دنوں سے مراد ایامِ مِنٰی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4561
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، وتفرد به ابراهيم بن مھاجر، وھو ضعيف، ووالدةيوسف بن ماھك، وھي مسيكة المكية، مجھولة ۔ أخرجه ابوداود: 2019، والترمذي: 881، وابن ماجه: 3006، 3007 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25541 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26057»