الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
الْمَبِيتُ بِمِنًى لَيَالِي مِنِّي وَرَمْيُ الْجِمَارِ فِي أَيَّامِهَا وَغَيْرُ ذَلِكَ بَابُ وَقْتِ رَمْيِ باب: منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ الْأُولَى الَّتِي تَلِي الْمَسْجِدَ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي فَيَقِفُ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو وَكَانَ يُطِيلُ الْوُقُوفَ ثُمَّ يَرْمِي الثَّانِيَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ ذَاتَ الْيَسَارِ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي فَيَقِفُ وَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو ثُمَّ يَمْضِي حَتَّى يَأْتِيَ الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيها بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ عِنْدَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ يَنْصَرِفُ وَلَا يَقِفُ قَالَ الزُّهْرِيُّ سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ مِثْلَ هَذَا۔ امام زہری کہتے ہیں: ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد کی طرف والے پہلے جمرہ کی رمی کرتے تو اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، اس کے بعد بائیں جانب مڑتے اور وادی میں قبلہ رخ کھڑے ہو کر ہاتھ اٹھاکر دعا کرتے اور کافی دیر تک دعا کرتے رہتے، اس کے بعد آپ دوسرے جمرے کی رمی کرتے، اس کو بھی سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے، پھر بائیں جانب ہٹ کر وادی میں قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہو جاتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے،بعد ازاں آگے بڑھتے اور جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچ کر اسے سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے اور وہاں سے واپس پلٹ آتے اور اس جمرہ کے پاس نہیں ٹھہرتے تھے۔ امام زہری نے کہا : میں نے سالم سے سنا، وہ یہ حدیث سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے تھے، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی اسی طرح ہوتا تھا۔