الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
الْمَبِيتُ بِمِنًى لَيَالِي مِنِّي وَرَمْيُ الْجِمَارِ فِي أَيَّامِهَا وَغَيْرُ ذَلِكَ بَابُ وَقْتِ رَمْيِ باب: منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 4557
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنَى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ لَا يَقِفُ عِنْدَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دن کے آخر میں طواف افاضہ کیا، جب نمازِ ظہر پڑھی، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ کو واپس چلے گئے اور ایام تشریق منیٰ میں گزارے، زوال آفتاب کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمروں کی رمی کرتے تھے، ہر جمرہ کو سات سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر پکارتے، پہلے اور دوسرے جمرے کے پاس کھڑے ہو کر طویل دعائیں کرتے اور گڑگڑاتے۔ پھر تیسرے جمرہ (جمرۂ عقبہ) کی رمی کرکے وہاں کھڑے نہ ہوتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف افاضہ کب کیا تھا، حدیث نمبر (۴۵۴۰ تا ۴۵۴۳)) اور ان کے فوائدمیں اس پر بحث ہو چکی ہے۔