الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ جَوَازِ تَقْدِيمِ النَّحْرِ وَالْحَلْقِ وَالرَّمْيِ وَالْإِفَاضَةِ بَعْضِهَا عَلَى بَعْضٍ باب: دس ذوالحجہ کو قربانی، حجامت، رمی اور طواف افاضہ میں تقدیم و تاخیر کے جائز ہو نے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى رَاحِلَتِهِ بِمِنَى قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْحَلْقَ قَبْلَ الذَّبْحِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ: ((اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ: ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَرَى أَنَّ الذَّبْحَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((فَارْمِ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ: فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ قَبْلَ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: ((اِفْعَلْ وَلَا حَرَجَ)) قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: ((ارْمِ وَلَا حَرَجَ))۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منیٰ میں اپنی سواری پر سوار تھے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو سمجھتا تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈاناہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے منڈوا لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ذبح کرلو، اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اتنے میں ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ ذبح کرنا رمی سے پہلے ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے قربانی کرلی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اب رمی کرلو۔ اس روز جس شخص نے ان امور کی تقدیم وتاخیر کے بارے میں جو سوال بھی کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اب کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔ عبدالرزاق راوی نے کہا: ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں سمجھتا تھا کہ رمی سے پہلے سر منڈوانا ہے، اس لیے میں نے رمی سے پہلے سر منڈٖوالیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب رمی کرلو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔