حدیث نمبر: 4545
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ رَجُلٌ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ)) وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((لَا حَرَجَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حجۃالوداع کے موقع پر ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے قربانی سے قبل سر منڈوالیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ ایک اور آدمی نے کہا: میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اس میں کوئی حرج نہ ہونے کا اشارہ کیا۔ اس دن ان امور کی تقدیم وتاخیر کے متعلق جس نے جو بھی بات دریافت کی، اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4545
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 84، 1723، 1734، 1735، ومسلم: 1307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2648»