حدیث نمبر: 4544
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ: فَصَارَ إِلَيَّ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصِينَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: ((هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟)) قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ)) قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِّمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ فَإِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ عُدْتُّمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یوم النحر کی شام کو میری رات ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس آنا تھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آ گئے، اتنے میں سیدنا وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آگئے، جبکہ ان کے ساتھ آلِ ابو امیہ کا ایک آدمی بھی تھا، ان دونوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوعبد اللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر قمیص اتار دو۔ انھوں نے بھی سر کی جانب سے قمیص اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی سر کی طرف سے قمیص اتار دی، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن میں ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب تم لوگ جمرہ کی رمی کر لو تو تم حلال ہو جاؤ گئے، یعنی تم کو جن امور سے (احرام کی وجہ سے) منع کر دیا تھا، وہ جائز ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، لیکن جب تم شام تک بیت اللہ کا طواف ہی نہ کر سکو تو تم احرام کی اسی حالت میں لوٹ آؤ گے، جو جمرہ کی رمی سے پہلے تھی،یہاں تک کہ تم یہ طواف کر لو۔

قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ: أَبُو عُبَيْدَةَ وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَاشَةُ! مَالَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ: كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں: میری پڑوسن سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے کہا: بنو اسد کے کچھ افراد سمیت سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ میرے پاس سے نکلے، ان لوگوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور یہیوم النحر کی شام تھی، لیکن جب عشاء کے وقت یہ لوگ واپس آئے تو انھون نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے عکاشہ! کیا ہوا تم لوگوں کو، جب تم نکلے تھے تو تم نے قمیصیں پہنیں ہوئی تھیں اور جب لوٹے ہو تو تم نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اس دس ذوالحجہ کے دن کو ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم جمرہ کی رمی کر لیں تو (احرام کی وجہ سے ) ممنوعہ چیزیں ہمارے لیے حلال ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، وہ طوافِ افاضہ کے بعد حلال ہوں گی، لیکن اگر اس طرح ہو جائے کہ شام تک ہم طواف نہ کر سکیں تو ہم احرام کی اسی حالت میں واپس آ جائیں گے، جس میں ہم جمرہ کی رمی سے پہلے تھے، پھر بیت اللہ کا طواف کر لینے تک احرام کی حالت میں ہی ٹھہریں گے۔ چونکہ ہم نے طواف نہیں کیا تھا، اس لیے ہم نے اپنی قمیصیں اس طرح کر لی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ’’أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَیْسٍ‘‘، مجمع الزوائد میں مسند احمد کے حوالے یہ الفاظ اس طرح ہیں: ’’خَیْرًایَا اُمَّ قَیْس‘‘، اورسنن بیہقی کی روایت کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں اور معنی بھی ان ہی الفاظ کے ساتھ درست بنتا ہے۔ معلوم ایسے ہوتا ہے کہ اصل الفاظ تو ’’خَیْرًایَا اُمَّ قَیْسٍ‘‘ ہی تھے، کسی لکھنے والے سے غلطی ہو گئی اور اس نے ’’أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَیْسٍ‘‘ کے الفاظ لکھ دیئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ہم نے ان ہی الفاظ کے مطابق ترجمہ کر دیا ہے۔ اس حدیث میںجو مسئلہ بیان کیا گیا ہے، وہ اس سے سابق حدیث کی بنا پر صحیح ہے۔ آخری دو احادیث میں جو مسئلہ بیان کیا گیا، سارے کے سارے حجاج کرام اس سے غافل ہیں، الا ماشاء اللہ، اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ حرمین شریفین میں حج و عمرہ کے موضوع پر لکھی گئی جتنی پاکٹ سائز کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں، ان میں یہ مسئلہ بیان نہیں کیا گیا اور وہ مسئلہ یہ ہے: جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد میاں بیوی کے خاص تعلق کے علاوہ احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، لیکن اگر کوئی آدمی شام تک طوافِ افاضہ نہ کر سکے تو یہ طواف مکمل کرنے تک احرام کی تمام پابندیاں دوبارہ عائد ہو جاتی ہیں، جن میں سب سے مشکل پابندییہ ہوتی ہے کہ شلوار قمیضیا عام لباس اتار کر احرام والی دو چادریں پہنی جائیں، کیونکہ حجاج کرام کا سامان ان کی رہائش گاہوں میںیا مِنٰی میں پڑا ہوتا ہے، بہتر یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو شام سے پہلے طوافِ افاضہ مکمل نہ کر لینے کا شبہ ہو تو وہ احرام کی چادریں اپنے ساتھ رکھے یا سرے سے طواف کر لینے تک احرام والا لباس ہی نہ اتارے۔ آخری دو احادیث میں لفظ ’’مَسَائ‘‘ استعمال ہوا ہے، ہم نے جس کا معنی ’’شام‘‘ کیا ہے، حقیقت میں اس لفظ کا اطلاق زوال آفتاب کے بعد سے لے کر سخت اندھیرا ہو جانے تک ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ان احادیث میں اس سے مراد رات کا ابتدائی حصہ ہے۔ اور رات کی ابتداء غروبِ آفتاب سے ہو جاتی ہے، حدیث نمبر (۴۵۴۴)کے ابتدائی حصے سے حافظ ابن حجر کے رجحان کو تقویت ملتی ہے، نیز حدیث نمبر (۴۵۴۴م) کے طحاوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَّمْ یُفِضْ اِلَی الْبَیْتِ مِنْ عَشِیَّۃِ ھٰذِہٖفَلْیَدَعِ الثِّیَابَ وَالطِّیْبَ۔)) … ’’جو اس دن کے ’’عَشِیّۃ‘‘ کو طواف نہ کر سکا، تو وہ کپڑے اتار دے اور خوشبو کو ترک کر دے۔ ‘‘یہاں ’’عَشِیّۃ‘‘ سے مراد زوال آفتاب سے غروبِ آفتاب کا وقت ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
طواف افاضہ حج کا رکن ہے، اس کی ادائیگی کا افضل طریقہیہ ہے کہ جمرۂ عقبہ کی رمی، قربانی اور حجامت کے بعد اور زوال سے پہلے پہلے یہ طواف کر لیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا۔ طوف زیارت جلد از جلد ادا کر لیا جائے، بوجہ عذر یہ طواف (۱۳) ذوالحجہ غروبِ آفتاب تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، اس طواف کے بعد آدمی مکمل طور پر حلال ہو جاتا ہے، یعنی بیویوں سے ہم بستری بھی کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4544
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «قال الالباني: حسن صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1999، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27065»