الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْإِفَاضَةِ عَنْ مِنَى لِلطَّوَافِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ الْمُسَمَّى بِطَوَافِ الْإِفَاضَةِ أَوْ باب: یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يُحَدِّثَانِهِ ذَلِكَ جَمِيعًا قَالَتْ: كَانَتْ لَيْلَتِي الَّتِي يَصِيرُ إِلَيَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَاءَ يَوْمِ النَّحْرِ قَالَتْ: فَصَارَ إِلَيَّ قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ آلِ أَبِي أُمَيَّةَ مُتَقَمِّصِينَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِوَهْبٍ: ((هَلْ أَفَضْتَ بَعْدُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟)) قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ((انْزِعْ عَنْكَ الْقَمِيصَ)) قَالَ: فَنَزَعَهُ مِنْ رَأْسِهِ وَنَزَعَ صَاحِبُهُ قَمِيصَهُ مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالُوا: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ((إِنَّ هَذَا يَوْمٌ رُخِّصَ لَكُمْ إِذَا أَنْتُمْ رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ أَنْ تَحِلُّوا يَعْنِي مِنْ كُلِّ مَا حُرِّمْتُمْ مِنْهُ إِلَّا مِنَ النِّسَاءِ فَإِذَا أَنْتُمْ أَمْسَيْتُمْ قَبْلَ أَنْ تَطُوفُوا بِهَذَا الْبَيْتِ عُدْتُّمْ حُرُمًا كَهَيْئَتِكُمْ قَبْلَ أَنْ تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطُوفُوا بِهِ))۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یوم النحر کی شام کو میری رات ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس آنا تھا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آ گئے، اتنے میں سیدنا وہب بن زمعہ رضی اللہ عنہ بھی میرے پاس آگئے، جبکہ ان کے ساتھ آلِ ابو امیہ کا ایک آدمی بھی تھا، ان دونوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا وہب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابوعبد اللہ! کیا تم نے طوافِ افاضہ کر لیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر قمیص اتار دو۔ انھوں نے بھی سر کی جانب سے قمیص اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی سر کی طرف سے قمیص اتار دی، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا اس کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن میں ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب تم لوگ جمرہ کی رمی کر لو تو تم حلال ہو جاؤ گئے، یعنی تم کو جن امور سے (احرام کی وجہ سے) منع کر دیا تھا، وہ جائز ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، لیکن جب تم شام تک بیت اللہ کا طواف ہی نہ کر سکو تو تم احرام کی اسی حالت میں لوٹ آؤ گے، جو جمرہ کی رمی سے پہلے تھی،یہاں تک کہ تم یہ طواف کر لو۔
قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ: أَبُو عُبَيْدَةَ وَحَدَّثَتْنِي أُمُّ قَيْسٍ بِنْتُ مِحْصَنٍ وَكَانَتْ جَارَةً لَهُمْ قَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فِي نَفَرٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مُتَقَمِّصِينَ عَشِيَّةَ يَوْمِ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيَّ عِشَاءً قُمُصُهُمْ عَلَى أَيْدِيهِمْ يَحْمِلُونَهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَيْ عُكَاشَةُ! مَالَكُمْ خَرَجْتُمْ مُتَقَمِّصِينَ ثُمَّ رَجَعْتُمْ وَقُمُصُكُمْ عَلَى أَيْدِيكُمْ تَحْمِلُونَهَا؟ فَقَالَ: أَخْبَرَتْنَا أُمُّ قَيْسٍ: كَانَ هَذَا يَوْمًا قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِيهِ إِذَا نَحْنُ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ حَلَلْنَا مِنْ كُلِّ مَا حَرُمْنَا مِنْهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النِّسَاءِ حَتَّى نَطُوفَ بِالْبَيْتِ فَإِذَا أَمْسَيْنَا وَلَمْ نَطُفْ بِهِ صِرْنَا حُرُمًا كَهَيْئَتِنَا قَبْلَ أَنْ نَرْمِيَ الْجَمْرَةَ حَتَّى نَطُوفَ بِهِ وَلَمْ نَطُفْ فَجَعَلْنَا قُمُصَنَا كَمَا تَرَيْنَ۔ ابو عبیدہ کہتے ہیں: میری پڑوسن سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے کہا: بنو اسد کے کچھ افراد سمیت سیدہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ میرے پاس سے نکلے، ان لوگوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں اور یہیوم النحر کی شام تھی، لیکن جب عشاء کے وقت یہ لوگ واپس آئے تو انھون نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا: اے عکاشہ! کیا ہوا تم لوگوں کو، جب تم نکلے تھے تو تم نے قمیصیں پہنیں ہوئی تھیں اور جب لوٹے ہو تو تم نے اپنی قمیصیں اپنے ہاتھوں پر اٹھائی ہوئی ہیں؟ انھوں نے کہا: سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اس دس ذوالحجہ کے دن کو ہمیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم جمرہ کی رمی کر لیں تو (احرام کی وجہ سے ) ممنوعہ چیزیں ہمارے لیے حلال ہو جائیں گے، ما سوائے بیویوں کے، وہ طوافِ افاضہ کے بعد حلال ہوں گی، لیکن اگر اس طرح ہو جائے کہ شام تک ہم طواف نہ کر سکیں تو ہم احرام کی اسی حالت میں واپس آ جائیں گے، جس میں ہم جمرہ کی رمی سے پہلے تھے، پھر بیت اللہ کا طواف کر لینے تک احرام کی حالت میں ہی ٹھہریں گے۔ چونکہ ہم نے طواف نہیں کیا تھا، اس لیے ہم نے اپنی قمیصیں اس طرح کر لی ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہی ہو۔
طواف افاضہ حج کا رکن ہے، اس کی ادائیگی کا افضل طریقہیہ ہے کہ جمرۂ عقبہ کی رمی، قربانی اور حجامت کے بعد اور زوال سے پہلے پہلے یہ طواف کر لیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا۔ طوف زیارت جلد از جلد ادا کر لیا جائے، بوجہ عذر یہ طواف (۱۳) ذوالحجہ غروبِ آفتاب تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، اس طواف کے بعد آدمی مکمل طور پر حلال ہو جاتا ہے، یعنی بیویوں سے ہم بستری بھی کر سکتا ہے۔