الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْإِفَاضَةِ عَنْ مِنَى لِلطَّوَافِ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ الْمُسَمَّى بِطَوَافِ الْإِفَاضَةِ أَوْ باب: یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کو منی سے طواف کے لیے لوٹنا اور اسی کو طوافِ افاضہ اور طوافِ زیارت کہنے اور شام تک یہ طواف نہ کر سکنے والے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 4543
(وَعَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ طَوَافَ يَوْمَ النَّحْرِ إِلَى اللَّيْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم النحر کے طواف کو رات تک مؤخر کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … تعارض کی ایک شکل پھر پیدا ہوگئی ہے اور وہ اس طرح کہ اس باب کی پہلی روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا تھا، لیکن اِن روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ طواف رات کو کیا تھا۔ اس تعارض کو اس طرح دور کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی زوال سے پہلے طوافِ افاضہ کر لیا تھا، لیکن امہات المؤمنین کو یہ طواف کروانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تھے، اس تطبیق کی تائید سنن بیہقی کی اس روایت سے ہوتی ہے: ((وَزَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَعَ نِسَائِہٖلَیْلًا)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو اپنی بیویوں کے ساتھ طوافِ زیارت کیا تھا۔