الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَلَاقِ عَلَى التَّقْصِيرِ باب: تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4539
عَنِ ابْنِ قَارِبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((اَللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ)) قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ فِي تِيكَ كَأَنَّهُ يُوَسِّعُ يَدَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا قارب بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو بخش دے۔ ایک آدمی نے کہا: اور تقصیر کرانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ فرمایا: اور تقصیر کرانے والے کو بھی بخش دے۔ سفیان اپنے ہاتھ کے ساتھ کمی اور قلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لیکن جب (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سر منڈوانے والوں کی بات کر رہے تھے) تو وہ اپنے ہاتھ سے وسعت کا اشارہ کر رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کے الفاظ اور ان کی مقدار تو ہمارے سامنے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے دو تین مرتبہ اور تقصیر کرانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اول الذکر لوگوں کے لیے بڑی رغبت کے ساتھ اور وسعت ِ قلبی سے دعا کر رہے تھے، لیکن مؤخر الذکر افراد کے لیے سادہ سے الفاظ میں دعائیہ کلمات کہہ دیئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَی النِّسَائِ الْحَلْقُ، اِنَّمَا عَلَی النِّسَائِ التَّقْصِیْرُ۔)) … ’’عورتوں پر سر کا مونڈنا نہیں ہے، بلکہ عورتوں پر صرف تقصیر ہے۔‘‘ (ابوداود: ۱۹۸۵) عام اہل علم کا خیال ہے کہ عورتوں کو انگلیوں کے اوپر والے پوروں کے برابر بال ترشوا لینے چاہئیں۔