حدیث نمبر: 4529
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) قَالُوا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمُ الرَّحْمَةَ؟ قَالَ: ((لَمْ يَشُكُّوا)) قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ والے دن کچھ لوگوں نے سر منڈوا دیا اور کچھ نے تقصیر کروائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی اللہ رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے رحمت کا بڑا اظہار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ ’’سرمونڈنے والوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔‘‘اس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہی کو اچھا سمجھا اور اس معاملے میں کوئی شک نہیں کیا، لیکن جن لوگوں نے تقصیر کروائی، ظاہری طور پر ایسے لگتا ہے کہ گویا ان کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کے بارے میں کوئی شک ہوا ہے کہ انھوں نے تقصیر کروائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کو ترک کر دیا۔ واضح رہے کہ اس مقام پر صرف سر منڈوانے والوں کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل کی اقتدا کی، جبکہ تقصیر کروانے والوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دی گئی رخصت سے ہی فائدہ اٹھایا، جبکہ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ سرمنڈوانا افضل ہے، لیکن ظاہری طور پر انھوں نے اس افضیلت کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4529
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔أخرجه ابن ماجه: 3045 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3311 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3311»