الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ فِي فَضْلِ الْحَلَاقِ عَلَى التَّقْصِيرِ باب: تراشنے کی بہ نسبت بالوں کو مونڈنے کی فضیلت کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: حَلَقَ رِجَالٌ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَقَصَّرَ آخَرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((يَرْحَمُ اللَّهُ الْمُحَلِّقِينَ)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ: ((وَالْمُقَصِّرِينَ)) قَالُوا: فَمَا بَالُ الْمُحَلِّقِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ظَاهَرْتَ لَهُمُ الرَّحْمَةَ؟ قَالَ: ((لَمْ يَشُكُّوا)) قَالَ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ والے دن کچھ لوگوں نے سر منڈوا دیا اور کچھ نے تقصیر کروائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: اللہ تعالی مونڈنے والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور تقصیر کروانے والے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بار فرمایا: اور تقصیر کروانے والوں پر بھی اللہ رحم کرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے لیے رحمت کا بڑا اظہار کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انھوں نے تو کوئی شک نہیں کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے۔