حدیث نمبر: 4528
عَنْ مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ مُعَاوِيَةَ (ابْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ مِنْ شَعْرِهِ بِمِشْقَصٍ فَقُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَلَغَنَا هَذَا إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ: مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انھوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چوڑے پھل سے اپنے بال تراشے تھے۔ مجاہد اور عطاء کہتے ہیں: ہم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ بات ہمیں صرف سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے موصول ہوئی ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تہمت زدہ نہیں ہیں (یعنی وہ یہ خبر دینے میں سچے ہیں)۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تراشنا، یہ عمرۂ جعرانہ کا واقعہ ہے، اس کی تفصیل حدیث نمبر (۴۲۰۰)میں گزر چکی ہے۔حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد قربانیاں کیں اور پھر سر منڈوایا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4528
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16988»