الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي النَّحْرِ وَالْحَلَاقِ وَالتَّقْصِيرِ باب: قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
حدیث نمبر: 4525
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: مَنْ ضَفَرَ فَلْيَحْلِقْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ جس نے بالوں کی لٹیں بنائی ہوئی ہیں، وہ اپنے بال مونڈ دے اور تم لوگ تلبید کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ لیکن سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبید کر رکھی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … تلبید: بالوں کو گوند جیسی چیز لگا کر چپکا دینا، تاکہ نہ وہ بکھر سکیں اور نہ ان میں گرد وغبار پڑ سکے، زیادہ دنوں تک احرام باندھنا ہو تو ایسے کیا جاتا ہے۔