حدیث نمبر: 4524
عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ (الْعَدَوِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُرَحِّلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ: فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي: ((يَا مَعْمَرُ لَقَدْ وَجَدْتُ فِي أَنْسَاعِي إِضْطِرَابًا)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا وَلَكِنَّهُ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفَسَ عَلَيَّ لِمَكَانِي مِنْكَ لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي قَالَ: فَقَالَ: ((أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ)) قَالَ: فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنَى أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ قَالَ: فَأَخَذْتُ الْمُوسَى فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي وَقَالَ لِي: ((يَا مَعْمَرُ أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى)) قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيَّ وَمَنِّهِ قَالَ: فَقَالَ: ((أَجَلْ إِذًا أُقِرُّ لَكَ)) قَالَ: ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا معمر بن عبد اللہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اونٹ کا پالان تیار کرتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو مجھے فرمایا: اے معمر!آج رات میں نے کجاوے والے قسموں کو ڈھیلا پایا ہے۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے؟ میں نے تو پہلے کی طرح ان کو کسا تھا، لیکن آپ کے ہاں میرے مرتبے پر حسد کرتے ہوئے کسی نے اس کو ڈھیلا کر دیا ہو گا، تاکہ آپ میری جگہ پر کسی اور خادم کا تعین کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں یہ کام کرنے والا نہیں ہوں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منی میں اپنی قربانی ذبح کی تو مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مونڈوں، پس میں نے استرا پکڑا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے پاس کھڑا ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور فرمایا: معمر! (تیری بھی کیا شان ہے کہ) اللہ کے رسول نے تجھے اپنے کان کی لو کے پاس کھڑا کیا اور تیرے ہاتھ میں استرا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! یہ مجھ پر اللہ تعالی کی نعمت اور احسان ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، میں یہ اعزاز تیرے لیے برقرار رکھوں گا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مونڈ دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4524
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال عبد الرحمن بن عقبة ۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 1096، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27791»