الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي النَّحْرِ وَالْحَلَاقِ وَالتَّقْصِيرِ باب: قربانی کرنا اور بال منڈوانا یا کترنا
حدیث نمبر: 4522
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا رَمَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَنَحَرَ هَدْيَهُ حَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: وَأَعْطَى الْحَالِقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَحَلَقَهُ فَأَعْطَاهُ أَبَا طَلْحَةَ ثُمَّ حَلَقَ الْأَيْسَرَ فَأَعْطَاهُ النَّاسَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی اور قربانی ذبح کی تو حجامت کروائی اور پہلے سر کی دائیں جانب کو حجام کی طرف کیا اور اس طرف کے مونڈے ہوئے بال سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو دے دیئے، پھر اس کی طرف بائیں جانب کی اور یہ بال دوسرے لوگوں کو دے دیئے۔
وضاحت:
فوائد: … سر کی حجامت کرتے وقت دائیں طرف سے آغاز کرنا سنت ہے، لوگوں کی اکثریت جہالت یا لاپرواہی کی وجہ سے اس سنت سے غافل ہے۔ نیز معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسد اطہر اور بالوں سے تبرّ ک حاصل کرنا مشروع ہے۔