الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ مَا يَحِلُّ لِلْحَاجِّ وَمَا يَفْعَلُهُ بَعْدَ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ باب: جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد حاجی کے حلال ہو جانے اور اس کے بعد دوسرے افعال کا بیان
حدیث نمبر: 4519
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: وَالطِّيبُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَакَ أَمْ لَا؟ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمرۂ (عقبہ) کی رمی کر لو تو عورتوں کے علاوہ تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی۔ ایک بندے نے کہا: اور خوشبو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد) کستوری سے اپنے سر کو لت پت کر رکھا تھا، تو یہ خوشبو تھی یا نہیں؟