حدیث نمبر: 4519
عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَكُمْ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: وَالطِّيبُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَمِّخُ رَأْسَهُ بِالْمِسْكِ أَفَطِيبٌ ذَакَ أَمْ لَا؟
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم جمرۂ (عقبہ) کی رمی کر لو تو عورتوں کے علاوہ تمہارے لیے ہر چیز حلال ہو جائے گی۔ ایک بندے نے کہا: اور خوشبو؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جمرۂ عقبہ کی رمی کے بعد) کستوری سے اپنے سر کو لت پت کر رکھا تھا، تو یہ خوشبو تھی یا نہیں؟

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4519
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 5/ 277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2090»