الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّكُوبِ لِرَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَالْمَشْيِ لِغَيْرِهَا باب: جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4517
عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ (الْأَحْمَسِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ وَبِلَالًا وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام حصین احمسیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، میں نے سیدنا اسامہ بن زید اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام تھام رکھی تھی اور دوسرا کپڑا اٹھائے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گرمی سے بچا رہا تھا، اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں، آج کل سواری پر رمی کرنے کا کوئی تصور نہیں ہے۔