الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ اسْتِحْبَابِ الرُّكُوبِ لِرَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ وَالْمَشْيِ لِغَيْرِهَا باب: جمرۂ عقبہ کی رمی کے لیے سوار ہو کر جانے اور باقی دنوں میں پیدل چل کر جانے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4514
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ: ((لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي أَنْ لَا أَحُجَّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ذوالحجہ کو سواری پر رمی کرتے اور فرماتے تھے: اپنے مناسک سیکھ لو، کیونکہ میں نہیں جانتا، شاید میں اپنے اس حج کے بعد حج نہ کر سکوں۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وضاحت کرنا چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت سے فائدہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر توجہ دیں اور اس ضمن میں کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں اور ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے بقیہ دن اور محرم اور صفر کے بعد ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔