الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَكَيْفِيَّةِ الرَّمْيِ وَمَا يُقَالُ عِنْدَهُ باب: وادی کے درمیان کھڑے ہو کر جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے، رمی کی کیفیت اور اس وقت کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 4509
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فَرَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنَى عَنْ يَمِينِهِ وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبدالرحمن بن یزید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے جمرہ کبریٰ کو سات کنکریاں ماریں، اس وقت بیت اللہ ان کی بائیں جانب اور منیٰ دائیں جانب تھا، پھر انھوں نے کہا: جس شخصیت پر سورۂ بقرہ نازل ہوئی تھی، انہوں نے اسی مقام پر کھڑے ہوکر رمی کی تھی۔