الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ باب: یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 4506
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَمِيلٍ الْجُمَحِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ عَطَاءً وَابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَعِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ رَحِمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ قَبْلَ الْفَجْرِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ لَهُ أَبِي: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ فِي أَيِّ سَنَةٍ سَمِعْتَ مِنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ؟ قَالَ: سَنَةَ تِسْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةَ وَقْعَةِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ نافع بن عمر جمحی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عطا ء، ابن ابی ملیکہ اور عکرمہ بن خالد کو دیکھا،یہ سب لوگ دس ذوالحجہ کو فجر سے پہلے رمی کرلیتے تھے۔امام احمدنے ان سے کہا: ابو سلیمان! آپ نے یہ بات نافع بن عمر سے کس سال سنی تھی؟ انہو ں نے کہا: ۶۹ھ میں، جس سال سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … حجاج کرام سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں اور تقریباً چاشت کے وقت مِنٰی میں پہنچ جائیں گے اور اسی وقت جمرۂ عقبہ کی رمی کریں گے، جو معذور لوگ پہلے سے مِنٰی پہنچ چکے ہوں گے، وہ حجاج کرام کے بڑے ہجوم کے پہنچنے سے پہلے لیکن طلوع آفتاب کے بعد رمی کریں گے۔