الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ وَقْتِ رَمْيِ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ باب: یوم نحریعنی دس ذوالحجہ کوجمرۂ عقبہ کی رمی کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 4505
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تُوَافِيَ مَعَهُ صَلَاةَ الصُّبْحِ يَوْمَ النَّحْرِ بِمَكَّةَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھاکہ وہ دس ذوالحجہ کو صبح کی نماز کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مکہ میں آ ملیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں واقعی کسی راوی سے کوئی خطا ہو گئی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو نمازِ فجر مزدلفہ میں ادا کی تھی۔ امام احمد نے کہا: یہ بات تو تعجب میں ڈال دینے والی ہے، بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو مکہ میں کیا کرنا تھا۔ یہ بھی احتما ہے ل کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہو گئی ہو اور اصل عبارت یوں ہوں: أَمَرَھَا یَوْمَ النَّحْرِ أَنْ تُوَافِیَ مَعَہُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِمَکَّۃَ،یعنییوم النحر کے بعد والے دن ملاقات کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا۔