الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ سَبَبِ مَشْرُوعِيَّةِ رَمْيِ الْجِمَارِ وَحُكْمِهَا وَعَدَدِ صِحَى الرَّمْيِ وَصِفَتِهِ وَمَنْ باب: جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
عَنِ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُوسًا عَنْ رَجُلٍ رَمَى الْجَمْرَةَ بِسِتِّ حَصَيَاتٍ فَقَالَ: لِيُطْعِمْ قَبْضَةً مِنْ طَعَامٍ قَالَ: فَلَقِيتُ مُجَاهِدًا فَسَأَلْتُهُ وَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَ طَاوُوسٍ فَقَالَ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا بَلَغَهُ قَوْلُ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَمَيْنَا الْجِمَارَ أَوِ الْجَمْرَةَ فِي حَجَّتِنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسْنَا نَتَذَاكَرُ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسِتٍّ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِسَبْعٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِثَمَانٍ وَمِنَّا مَنْ قَالَ: رَمَيْتُ بِتِسْعٍ فَلَمْ يَرَوْا بِذَلِكَ بَأْسًا۔ ابن ابی نجیح کہتے ہیں: میں نے طاؤس سے پوچھاکہ اگر کوئی آدمی جمرے کو چھ کنکریاں مارے تو اس کا کیا بنے گا؟ انھوں نے کہا: وہ ایک مٹھی کھانا صدقہ کرے۔ اس کے بعد جب میری مجاہد سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے طاؤس کے فتوے کا ذکر کیا، انھوں نے کہا: اللہ تعالی ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے، کیا سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ قول ان تک نہیں پہنچا، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے موقع پر ہم نے جمرات کی رمی کی، اس کے بعد ہم بیٹھے باتیں کررہے تھے، کسی نے کہا: میں نے چھ کنکریاں ماریں ہیں، کسی نے کہا: میں نے تو سات ماری ہیں ، کسی نے کہا: میں نے آٹھ ماری ہیں اور کسی نے کہا: میں نے نوماری ہیں، پھر انھوں نے اس میں کوئی حرج محسوس نہ کی۔