حدیث نمبر: 4496
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ ذَهَبَ بِإِبْرَاهِيمَ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْوُسْطَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ ثُمَّ أَتَى الْجَمْرَةَ الْقُصْوَى فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ فَسَاخَ فَلَمَّا أَرَادَ إِبْرَاهِيمُ أَنْ يَذْبَحَ ابْنَهُ إِسْحَاقَ قَالَ لِأَبِيهِ: يَا أَبَتِ أَوْثِقْنِي لَا أَضْطَرِبُ فَيَنْتَضِحَ عَلَيْكَ مِنْ دَمِي إِذَا ذَبَحْتَنِي فَشَدَّهُ فَلَمَّا أَخَذَ الشَّفْرَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَهُ نُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ {أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب جبریل، ابرہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کی طرف لے کر چلے،تو شیطان سامنے آگیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں،سو وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابرا ہیم علیہ السلام جمرۂ وسطی کے پاس آئے تو پھر شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو پھر سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام جمرۂ قصویٰ کے پاس گئے، وہاں بھی شیطان سامنے آ گیا، آپ علیہ السلام نے اس کو یہاں بھی سات کنکریاں ماریں، پس وہ زمین میں دھنس گیا، اس کے بعد جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسحق علیہ السلام کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے والد سے کہا: اباجان ! آپ مجھے باندھ دیں تاکہ جب آپ مجھے ذبح کریں تو میں نہ تڑپ سکوں اور اس طرح میرا خون آپ کے اوپر نہ پڑے، ابراہیم علیہ السلام نے اسے باندھ دیا اور جب انہوں نے چھری سنبھالی تو پیچھے سے آواز آئی: اے ابرا ہیم! ا ٓپ نے خواب کو سچ کر دکھایا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس کی تفصیل کے لیے حدیث نمبر (۴۱۳۷) دیکھیں۔جمہور محقق اہل علم کی رائے یہ ہے کہ اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کیا گیا تھا، نہ اسحق علیہ السلام کو، قرآن مجید کے ظاہری سیاق و سباق کا بھییہی تقاضا ہے، ہم کتاب التفسیر میں سورۂ صافات میں یہ مسئلہ وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ ان شاء اللہ تعالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4496
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب اختلط ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2794»