حدیث نمبر: 4492
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَاسِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا امْرَأَةً ثَبِطَةً ثَقِيلَةً فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ تَفِيضَ فَأَذِنَ لَهَا قَالَتْ عَائِشَةُ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي وَكَانَ الْقَاسِمُ يَكْرَهُ أَنْ يُفِيضَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ مزدلفہ میں فجر کے بعد والے وقوف سے قبل ہی منیٰ کو روانہ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دے دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں یہ پسند کر رہی ہوں کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کر لیتی تو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی اجازت دے دیتے۔ قاسم مزدلفہ کے وقوف سے قبل منیٰ کی طرف جانے کواچھا نہیں سمجھتے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4492
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1681، ومسلم: 1290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25142»