حدیث نمبر: 4485
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعْنَا (وَفِي لَفْظٍ حِينَ دَفَعُوا): ((عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ)) وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنَى حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا (وَفِي لَفْظٍ: حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنَى) قَالَ: ((عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ)) وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو جب ہم روانہ ہوئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سکون سے چلو۔ اور آپ اپنی اونٹنی کو بھی تیزچلنے سے روک رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ وادیٔ محسر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (چنے یا لوبیاوغیرہ کے دانے کے برابر) کنکریوں کا اہتمام کرو، جن سے جمرے کو مارا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر رہے تھے، جیسے انسان اس حجم کی کنکری پھینکتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / طواف المفرد والقارن والمتمتع / حدیث: 4485
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1794 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1794»