الفتح الربانی
طواف المفرد والقارن والمتمتع— حج افراد، حج قران اور حج تمتع کرنے والے کے طواف کا بیان
بَابُ الْأَمْرِ بِالسَّكِينَةِ عِنْدَ الدَّفْعِ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنَى وَالْإِيضَاعِ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ باب: مزدلفہ سے منی کی طرف جاتے وقت سکینت کا حکم دینے اور وادیٔ محسر سے تیزی سے گزرنے کا بیان
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ وَجَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ ثُمَّ وَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَوَقَفَ عَلَى قُزَحَ وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَقَالَ: ((هَذَا الْمَوْقِفُ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ)) ثُمَّ دَفَعَ وَجَعَلَ يَسِيرُ الْعَنَقَ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ يَمِينًا وَشِمَالًا وَهُوَ يَلْتَفِتُ وَيَقُولُ: ((السَّكِينَةَ السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ)) حَتَّى جَاءَ مُحَسِّرًا فَقَرَعَ رَاحِلَتَهُ فَخَبَّتْ حَتَّى خَرَجَ ثُمَّ عَادَ لِسَيْرِهِ الْأَوَّلِ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ … الْحَدِيثَ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے اور مغرب اور عشاء کی دو نمازیں جمع کر کے ادا کیں اور وہیں وقوف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قزح پر وقوف کیا اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور فرمایا: یہ میری ٹھہرنے کی جگہ ہے، لیکن مزدلفہ سارے کا سارا ہی جائے وقوف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں سے چل دیئے اور کچھ تیزی سے چلنا شروع کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ لوگ دائیں بائیں نکلے جارہے تھے، تو ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: آرام سے، لوگو! آرام سے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ محسر تک آپہنچے پھر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری کو ہانکا، پس وہ دوڑ پڑی،یہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادی سے باہر آگئے اور اپنی پہلی رفتار کے ساتھ چلنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔